السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4032. -- باب: من يرجع إليه في السؤال، يجب أن تكون معرفته باطنة متقادمة
-- باب: جس شخص سے (گواہوں کے بارے میں) دریافت کیا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی واقفیت اندرونی اور پرانی ہو۔
حدیث نمبر: 20398
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عَبَّادٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عنْ ابنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ رَجُلٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ:" كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللهِ، أَتَعْرِفُهُ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا اسْمُهُ؟"، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ:" فَأَيْنَ مَنْزِلُهُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ:" فَلَيْسَ هَذِهِ بِمَعْرِفَةٍ"، كَذَا قَالَ..
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! کیا تو اس کو جانتا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کا گھر کہاں ہے؟“ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہچان نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20398]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20398 in Urdu