🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4032. -- باب: من يرجع إليه في السؤال، يجب أن تكون معرفته باطنة متقادمة
-- باب: جس شخص سے (گواہوں کے بارے میں) دریافت کیا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی واقفیت اندرونی اور پرانی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20400
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ الْهَرَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ: شَهِدَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَهَادَةٍ، فَقَالَ لَهُ:" لَسْتُ أَعْرِفُكَ، وَلَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا أَعْرِفَكَ، ائْتِ بِمَنْ ⦗٢١٤⦘ يَعْرِفُكَ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا أَعْرِفُهُ، قَالَ:" بِأِيِّ شَيْءٍ تَعْرِفُهُ؟" قَالَ: بِالْعَدَالَةِ وَالْفَضْلِ، فَقَالَ:" فَهُوَ جَارُكَ الْأَدْنَى الَّذِي تَعْرِفُ لَيْلَهَ وَنَهَارَهَ، وَمَدْخَلَهُ وَمَخْرَجَهُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَمُعَامِلُكَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ اللَّذَيْنِ بِهِمَا يُسْتَدَلُّ عَلَى الْوَرَعِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَرَفيِقُكَ فِي السَّفَرِ الَّذِي يُسْتَدَلُّ عَلَى مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" لَسْتَ تَعْرِفُهُ"، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ:" ائْتِ بِمَنْ يَعْرِفُكَ".
خرشہ بن حر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گواہی کے لیے آیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: میں تجھے پہچانتا نہیں ہوں، لیکن یہ بات تجھے کچھ بھی نقصان نہ دے گی جب تو اپنے کسی پہچاننے والے کو لے آئے گا۔ قوم کے ایک فرد نے کہا: میں اسے جانتا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کس چیز کے ذریعے اسے پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: عدالت اور فضیلت کی وجہ سے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا وہ تیرا قریبی ہمسایہ ہے کہ تم اس کے لیل و نہار کو جانتے ہو اور اس کے نکلنے اور داخل ہونے کی جگہ کو پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا درہم و دینار کی بنا پر تقویٰ پر استدلال کرتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا یہ سفر میں تمہارا ساتھی تھا کہ تم اس کے اچھے اخلاق پر استدلال کر رہے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم اسے نہیں جانتے، کسی ایسے کو لاؤ جو تمہیں جانتا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20400]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20400 in Urdu