🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4038. -- باب: الاحتياط في قراءة الكتاب والإشهاد عليه وختمه لئلا يزور عليه
-- باب: مکتوب کو پڑھنے، اس پر گواہ بنانے اور اس پر مہر لگانے میں احتیاط برتنے کا بیان تاکہ اس میں جعل سازی (رد و بدل) نہ کی جا سکے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20417
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقَالَ:" الْتَمِسْ صَاحِبًا"، قَالَ: فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَكَ صَاحِبٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا، قَالَ: فَقَالَ لِيَ:" مَنْ؟"، فَقُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ:" إِذَا هَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِهِ فَاحْذَرْهُ، فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ: أَخُوكَ الْبَكْرِيُّ فَلَا تَأْمَنْهُ". قَالَ: فَخَرَجْنَا، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْأَبْوَاءِ قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي بِوَدَّانَ فَتَلَبَّثْ لِي، قُلْتُ: رَاشِدًا، فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَدَدْتُ عَلَى بَعِيرِي حَتَّى خَرَجْتُ أُوضِعُهُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالْأَصَافِرِ إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطٍ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي أَنْ قَدْ فُتُّهُ انْصَرَفُوا، وَجَاءَنِي فَقَالَ: كَانَتْ لِي إِلَى قَوْمِي حَاجَةٌ قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، وَمَضَيْنَا، حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا مَكَّةَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن فغواء خزاعی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ مجھے مال دے کر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ میں روانہ کریں تاکہ فتح کے بعد تقسیم کیا جا سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا ساتھی تلاش کر۔“ میرے پاس سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: آپ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ساتھی کی تلاش ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ وہ کہنے لگے: میں تیرا ساتھی ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں نے ساتھی پا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون؟“ میں نے کہا: عمرو بن امیہ ضمری، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس کی قوم کے علاقے میں اترو تو اس سے بچنا، کہنے والا کہے گا: تیرا بھائی بکری ہے، تو اس سے بےخوف نہ ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم ابواء نامی جگہ پر آئے، انہوں نے کہا: مجھے اپنی قوم میں کچھ ضروری کام ہے، آپ میرا انتظار کریں، میں نے کہا: ٹھیک ہے، جب وہ چلا گیا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یاد کیا۔ میں اپنے اونٹ پر مضبوطی سے بیٹھ گیا، یہاں تک کہ میں اس کو چھوڑ کر نکل گیا۔ جب میں اصافر نامی جگہ پہنچا، اچانک وہ ایک گروہ میں میرے مقابل آگئے۔ کہتے ہیں: میں ان کو چھوڑ کر سبقت لے گیا۔ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں ان سے بچ گیا ہوں، تو وہ چلے گئے۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کام تھا۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلتے ہوئے مکہ آگئے اور میں نے مال ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20417]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20417 in Urdu