السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4045. -- باب: ما جاء في أجر القسام
-- باب: تقسیم کنندہ (قسام) کی اجرت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20441
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَنْبَغِي أَنْ يُعْطَى أَجْرُ الْقَسَّامِ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ، لِأَنَّ الْقَسَّامَ حَكَّامٌ.
قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ:" قَدْ رُوِّينَا فِي سَهْمِ الْمُصَالِحِ سَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ لِنَوَائِبِهِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ.
قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ:" قَدْ رُوِّينَا فِي سَهْمِ الْمُصَالِحِ سَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ لِنَوَائِبِهِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تقسیم کرنے والوں (قسّام) کی اجرت بیت المال سے دی جانی چاہیے، کیونکہ تقسیم کرنے والے (بھی ایک طرح کے) حاکم ہیں۔“
شیخ فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں مصالح کے حصے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بارے میں روایت پہنچی ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی (ذاتی) ضروریات اور لوگوں کی ضروریات (و حوادث) کے لیے ہوتا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20441]
شیخ فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں مصالح کے حصے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بارے میں روایت پہنچی ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی (ذاتی) ضروریات اور لوگوں کی ضروریات (و حوادث) کے لیے ہوتا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20441]
حدیث نمبر: 20441
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ حِكَايَةً عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَرِيفٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْتَ الْمَالِ فَأَضْرَطَ بِهِ وَقَالَ:" لَا أُمْسِي وَفِيكَ دِرْهَمٌ"، فَأَمَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَقَسَمَهُ إِلَى اللَّيْلِ، فَقَالَ النَّاسُ: لَوْ عَوَّضْتَهُ؟ فَقَالَ:" إِنْ شَاءَ، وَلَكِنَّهُ سُحْتٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ السُّحْتَ، كَمَا لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَهُ، وَلَا نَرَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِي شَيْئًا يَرَاهُ سُحْتًا إِنْ شَاءَ اللهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، مُوسَى بْنُ طَرِيفٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا:.
موسیٰ بن طریف اسدی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیت المال میں داخل ہوئے اور اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ فرماتے ہیں: میں شام نہیں کروں گا کہ تیرے اندر ایک درہم بھی ہو۔ انہوں نے بنو اسد کے ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے رات تک تقسیم کر دیا۔ لوگوں نے کہا: اگر آپ اس کو کچھ معاوضہ دے دیتے۔ کہنے لگے: اگر وہ چاہے، لیکن یہ ناجائز ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حرام کمائی کسی کو دینا بھی جائز نہیں جیسے لینا جائز نہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ حرام چیز کسی کو نہ دیتے تھے۔
اس کی سند ضعیف ہے، موسیٰ بن طریف قابلِ حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20441]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حرام کمائی کسی کو دینا بھی جائز نہیں جیسے لینا جائز نہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ حرام چیز کسی کو نہ دیتے تھے۔
اس کی سند ضعیف ہے، موسیٰ بن طریف قابلِ حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20441]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20441 in Urdu