السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4047. جماع أبواب ما على القاضي في الخصوم والشهود -- باب: إنصاف القاضي في الحكم، وما يجب عليه من العدل فيه، لما في الظلم من عظيم الوزر، وكبير الإثم
فریقین (مقدمہ) اور گواہوں کے حوالے سے قاضی پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے جامع ابواب کا بیان۔ -- باب: قاضی کا فیصلے میں انصاف کرنا، اور اس پر عدل قائم کرنا کس قدر واجب ہے کیونکہ ظلم کرنے میں بہت بھاری بوجھ اور بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 20452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أُحَرِّجُ عَلَيْكُمْ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ: الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں دو کمزوروں: یتیم اور عورت کے حق (کو ضائع کرنے) سے سختی سے ڈراتا ہوں۔“
(ب) عبداللہ بن عبدالعزیز عمری رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنایا گیا، فرمایا: ”کمینے کو شریف سے پہلے رکھنا اور کمزور کو قوی سے پہلے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20452]
(ب) عبداللہ بن عبدالعزیز عمری رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنایا گیا، فرمایا: ”کمینے کو شریف سے پہلے رکھنا اور کمزور کو قوی سے پہلے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20452]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20452 in Urdu