السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
417. -- باب: تعجيل الظهر في غير شدة الحر
-- باب: شدید گرمی نہ ہونے کی صورت میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2051
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَإِنَّ أَحَدَنَا يَذْهَبُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَيَرْجِعُ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ الْمَغْرِبَ، وَكَانَ لَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ" قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ" قَالَ:" وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَيَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ الَّذِي كَانَ يَعْرِفُهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ" وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرِينَ، عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی مدینہ کے دوسرے کنارے سے ہو کر واپس آ جاتا، لیکن سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا اور مغرب کا وقت میں بھول گیا اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات تک مؤخر کیا کرتے تھے، پھر ابوبرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر فرمانے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے آدھی رات تک (مؤخر) فرماتے تھے اور عشاء سے پہلے سونے کو ناپسند فرماتے تھے، اسی طرح عشاء کے بعد (دنیاوی) باتیں کرنا بھی آپ کو ناپسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو پہچان سکتا تھا اور فجر کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ سے سو آیات تلاوت فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2051]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 516»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2051 in Urdu