السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4073. -- باب: شهادة القاذف
-- باب: قاذف (پاکدامن پر تہمت لگانے والے) کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 20555
قَالَ: وَثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُصَيْنٌ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا جُلِدَ حَدًّا فِي قَذْفٍ بِالرِّيبَةِ، فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ ضَرْبِهِ أَحْدَثَ تَوْبَةً، قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ قَذْفِ الْمُحْصَنَاتِ، فَلَقِيتُ أَبَا الزِّنَادِ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ لِي:" الْأَمْرُ عِنْدَنَا إِذَا رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ وَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ، قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ" قَالَ الشَّيْخُ:" وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ قَوْلَهُ فِي شَهَادَةِ الْقَاذِفِ.
(٢٠٥٥٥) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس کو شک کی بنیاد پر تہمت کی حد لگائی گئی۔ جب حد سے فارغ ہوئے تو اس نے توبہ کرلی۔ اس نے کہا: میں اللہ سے بخشش اور توبہ طلب کرتا ہوں، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے۔ راوی کہتے ہیں: میں ابو الزناد سے ملا اور یہ بات بیان کی تو وہ فرمانے لگے: ہمارے ہاں یہ ہے کہ جب وہ اپنی بات سے پلٹ جاتے اور توبہ کرلے تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں: عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ ان کا قول تہمت لگانے والے کی گواہی کے بارے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20555]
(ب) شیخ فرماتے ہیں: عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ ان کا قول تہمت لگانے والے کی گواہی کے بارے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20555]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20555 in Urdu