🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4090. -- باب: : القضاء باليمين مع الشاهد
-- باب: ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ صادر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20690
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ، أنبأ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا رَجْعَةَ إِلَّا بِشَاهِدَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عُذْرٌ، فَيَأْتِيَ بِشَاهِدٍ، وَيَحْلِفَ مَعَ شَاهِدِهِ". ⦗٢٩٥⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَعَطَاءٌ يُفْتِي بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فِيمَا لَا يَقُولُ بِهِ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِنَا"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَالْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ لَا يُخَالِفُ مِنْ ظَاهِرِ الْقُرْآنِ شَيْئًا، لِأَنَّا نَحْكُمُ بِشَاهِدَيْنِ، وَبِشَاهِدٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَلَا يَمِينَ، فَإِذَا كَانَ شَاهِدٌ حَكَمْنَا بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، وَلَيْسَ هَذَا بِخِلَافِ ظَاهِرِ الْقُرْآنِ، لِأَنَّهُ لَمْ يُحَرِّمْ أَنْ يَجُوزَ أَقَلُّ مِمَّا نَصَّ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ أَمَرَنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نَأْخُذَ مَا آتَانَا، وَنَنْتَهِيَ عَمَّا نَهَانَا، وَنَسْأَلُ اللهَ الْعِصْمَةَ وَالتَّوْفِيقَ".
ابن جریج حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رجوع میں دو گواہ ضروری ہیں؛ اگر عذر ہو تو ایک گواہ اور ایک قسم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ذریعہ ایسے فیصلہ دیا حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا، اور فرمایا:
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قسم اور گواہ یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں؛ کیونکہ ہم دو گواہوں کے ذریعے، اور ایک گواہ اور دو عورتوں کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں اور (اس میں) قسم نہیں ہوتی؛ جب ایک گواہ ہو تو گواہ اور قسم سے فیصلہ کر دیتے ہیں، اور یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ قرآن نے اس بات کو حرام نہیں کیا کہ جو اس نے اپنی کتاب میں صراحت سے بیان کیا ہے اس سے کم بھی جائز ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کی مراد کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، اور اللہ عزوجل نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دیں وہ لے لیں اور جس سے روکیں اس سے رک جائیں، اور ہم اللہ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20690]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20690 in Urdu