🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4103. -- جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين
-- آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، ثنا وَاللهِ أَبُو ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْشِي فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، فَاسْتَقْبَلْنَا أُحُدًا، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ لِي ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيْهِ لَيْلَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللهِ هَكَذَا وَهَكَذَا"، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَلَا إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا ⦗٣١٩⦘ وَهَكَذَا"، ثُمَّ قَالَ لِي:" مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ"، قَالَ: وَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ:" لَا تَبْرَحْ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لَكَ ذَاكَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ فَأَقَمْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ جِبْرَائِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ..
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، جو ربذہ میں تھے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام کے وقت مدینہ کے پتھریلے علاقے میں چل رہا تھا۔ ہم احد پہاڑ کے سامنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! مجھے یہ پسند نہیں کہ یہ احد پہاڑ میرے لیے سونا بن جائے اور اس پر ایک رات بھی ایسی گزرے کہ اس میں سے ایک دینار میرے پاس ہو، سوائے اس دینار کے جو میں قرض کے لیے رکھ لوں، مگر یہ کہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح اور اس طرح تقسیم کر دوں۔“ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”اے ابوذر!“ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں، حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! زیادہ مال والے ہی (اجر میں) کم ہوں گے، سوائے اس کے جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح خرچ کیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے ابوذر! اپنی جگہ رہنا، میں تیرے پاس آتا ہوں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، مجھ سے چھپ گئے، میں نے آواز سنی تو میں ڈرا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی معاملہ پیش نہ آ جائے، میں نے ارادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: ”ابوذر! اپنی جگہ رہنا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آواز سنی تھی، میں ڈرا کہ کوئی معاملہ پیش نہ آئے۔ پھر آپ کی بات یاد آ گئی تو میں ٹھہر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل ہیں، اس نے مجھے خبر دی کہ میری امت کا جو فرد فوت ہو گیا اور اللہ کے ساتھ اس نے شرک نہ کیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20768 in Urdu