السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4104. -- باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار
-- باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
حدیث نمبر: 20808
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامِغَانِيُّ بِبَيْهَقَ قَالَا: أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عِمْرَانَ الْغَزِّيُّ بِغَزَّةَ سَنَةَ ثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ بِشْرٍ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالُوا: الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ، فَقَالَ إِيَاسٌ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قُرَّةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْحَيَاءَ الْعَفَافُ، وَالْعِيَّ عِيُّ اللِّسَانِ، لَا عِيُّ الْقَلْبِ، وَالْعَمَلُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ، وَيَنْقُصْنَ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا". قَالَ إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ: فَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَمْلَيْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ كَتَبَهَا بِخَطِّهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَإِنَّهُ لَفِي كُمِّهِ، مَا وَضَعَهَا إِعْجَابًا بِهَا.
ایاس بن معاویہ بن قرہ مزنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس تھے، ان کے ہاں حیا کا تذکرہ کیا گیا تو لوگوں نے کہا: ”حیا دین کا حصہ ہے۔“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بلکہ یہ پورا دین ہے۔“ ایاس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے میرے دادا قرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حیا کا تذکرہ کیا گیا، تو لوگوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا حیا دین کا حصہ ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ پورا دین ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا کا مطلب ہے پاک دامن رہنا اور زبان سے تھک جانا، دل سے نہیں اور عمل ایمان کا حصہ ہے اور یہ آخرت میں اضافے کا باعث ہے اور دنیا میں کمی کا باعث ہے، یہ دنیا کے مقابلے میں آخرت میں اضافے کا سبب زیادہ ہوتی ہے۔“
ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ایک خط پر لکھوں، پھر میں نے ان کو یہ لکھ کر دیا، پھر انہوں نے اسے اپنے خط میں لکھ لیا، پھر ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی، وہ (تحریر) آپ کی آستین میں تھی اور آپ کو بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20808]
ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ایک خط پر لکھوں، پھر میں نے ان کو یہ لکھ کر دیا، پھر انہوں نے اسے اپنے خط میں لکھ لیا، پھر ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی، وہ (تحریر) آپ کی آستین میں تھی اور آپ کو بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20808]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20808 in Urdu