السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4108. -- باب: : من وعد غيره شيئا، ومن نيته أن يفي به، ثم وفى به، أو لم يف به لعذر، ومن وعد ومن نيته أن لا يفي به
-- باب: جس شخص نے کسی سے کسی چیز کا وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی ہو، پھر اس نے اسے پورا کر دیا یا کسی عذر کے باعث پورا نہ کر سکا، اور جس نے وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا نہ کرنے کی تھی۔
حدیث نمبر: 20839
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسٌ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مَوْلًى، لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَنَا وَأَنَا صَبِيٌّ صَغِيرٌ، فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ فَقَالَتْ لِي أُمِّي: يَا عَبْدَ اللهِ، تَعَالَ أُعْطِيكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيَهُ"؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَهُ تَمْرًا، قَالَ:" أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِي لَكُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةً".
عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور میں چھوٹا بچہ تھا، میں کھیل میں مصروف ہو گیا، میری والدہ نے فرمایا: اے عبداللہ! آؤ میں تجھے کچھ دوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا دینے کا ارادہ ہے؟“ کہنے لگی: کھجور دینے کا ارادہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آپ ایسا نہ کرتی تو یہ بھی جھوٹ لکھا جاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20839]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20839 in Urdu