السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4114. -- باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء
-- باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20880
أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ بْنُ بُرْهَانٍ، وَأَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَنْزِعُ فِي زَمْزَمَ قَدِ ابْتَلَّتْ أَسَافِلُ ثِيَابِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ تُكُلِّمَ فِي الْقَدَرِ، فَقَالَ:" أَوَ قَدْ فَعَلُوهَا؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِلَّا فِيهِمْ: {ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: ٤٩] أُولَئِكَ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، لَا تَعُودُوا مَرْضَاهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَى مَوْتَاهُمْ، إِنْ أَرَيْتَنِي أَحَدًا مِنْهُمْ فَقَأْتُ عَيْنَيْهِ بِأُصْبُعِيَّ هَاتَيْنِ".
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ آبِ زمزم نکال رہے تھے۔ ان کے کپڑوں کے نیچے والا حصہ تر ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: تقدیر کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ فرمانے لگے: کیا؟ انہوں نے ایسا کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمانے لگے: اللہ کی قسم! یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾ [سورة القمر: 48-49] یہ اس امت کے بدترین لوگ ہیں۔ ان کے بیماروں کی تیمار داری نہ کرو، ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھو، اگر ان میں سے میں کسی کو دیکھ لیتا تو اپنی انگلیوں کے ساتھ ان کی آنکھیں نکال دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20880]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20880 in Urdu