السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4114. -- باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء
-- باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20901
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، فِي كِتَابِ السُّنَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً". قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ قَوْلُهُ:" سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً" فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ هَذِهِ الْفِرَقَ كُلَّهَا غَيْرُ خَارِجِينَ مِنَ الدِّينِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَهُمْ كُلَّهُمْ مِنْ أُمَّتِهِ، وَفِيهِ أَنَّ الْمُتَأَوِّلَ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْمِلَّةِ وَإِنْ أَخْطَأَ فِي تَأْوِيلِهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَمَنْ كَفَّرَ مُسْلِمًا عَلَى الْإِطْلَاقِ بِتَأْوِيلٍ لَمْ يَخْرُجْ بِتَكْفِيرِهِ إِيَّاهُ بِالتَّأْوِيلِ عَنِ الْمِلَّةِ، فَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي خَرَجَ مِنْ صَلَاةِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَقَالَ:" مُنَافِقٌ"، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزِدْ مُعَاذًا عَلَى: أَنْ أَمَرَهُ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَقَالَ:" أَفَتَّانٌ أَنْتَ"؟ لِتَطْوِيلِهِ الصَّلَاةَ" وَرُوِّينَا فِي قِصَّةِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ حَيْثُ كَتَبَ إِلَى قُرَيْشٍ بِمَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ عَامَ الْفَتْحِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا" وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْمِيَتَهُ بِذَلِكَ، إِذْ كَانَ مَا فَعَلَ عَلَامَةً ظَاهِرَةً عَلَى النِّفَاقِ، وَإِنَّمَا يَكْفُرُ مَنْ كَفَّرَ مُسْلِمًا بِغَيْرِ تَأْوِيلٍ".
ابوسلمہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اکہتر یا بہتر (71 یا 72) فرقوں میں بٹ گئے اور عیسائی اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔“
ابوسلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، مراد یہ ہے کہ یہ تمام فرقے دین سے خارج نہ ہوں گے بلکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شمار کیے جائیں گے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ تاویل کرنے والا ملت سے خارج نہیں ہوتا اگرچہ وہ اپنی تاویل میں غلطی کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کسی مسلمان کو مطلق طور پر کافر کہا تو اس کے کافر کہنے کی وجہ سے وہ دین سے نہ نکل جائے گا جیسا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پیچھے سے ایک آدمی نماز سے نکل گیا تو انہوں نے اس کو منافق کہہ دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو نماز کی تخفیف کا حکم دیا اور فرمایا: ”اے معاذ! کیا آپ فتنہ ڈالنے والے ہیں؟“ یعنی زیادہ لمبی نماز نہ پڑھا کرو۔
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے جب قریشیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حملے کی خبر دینے کی کوشش کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن اتار دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بدر میں شریک ہوا تھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس کو منافق کہنے پر تکفیر نہیں فرمائی کیونکہ یہ نفاق پر ایک ظاہری علامت تھی اور کافر وہ ہوتا ہے جس نے کسی مسلمان کی بغیر تاویل کے تکفیر کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20901]
ابوسلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، مراد یہ ہے کہ یہ تمام فرقے دین سے خارج نہ ہوں گے بلکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شمار کیے جائیں گے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ تاویل کرنے والا ملت سے خارج نہیں ہوتا اگرچہ وہ اپنی تاویل میں غلطی کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کسی مسلمان کو مطلق طور پر کافر کہا تو اس کے کافر کہنے کی وجہ سے وہ دین سے نہ نکل جائے گا جیسا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پیچھے سے ایک آدمی نماز سے نکل گیا تو انہوں نے اس کو منافق کہہ دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو نماز کی تخفیف کا حکم دیا اور فرمایا: ”اے معاذ! کیا آپ فتنہ ڈالنے والے ہیں؟“ یعنی زیادہ لمبی نماز نہ پڑھا کرو۔
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے جب قریشیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حملے کی خبر دینے کی کوشش کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن اتار دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بدر میں شریک ہوا تھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس کو منافق کہنے پر تکفیر نہیں فرمائی کیونکہ یہ نفاق پر ایک ظاہری علامت تھی اور کافر وہ ہوتا ہے جس نے کسی مسلمان کی بغیر تاویل کے تکفیر کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20901]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20901 in Urdu