السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4114. -- باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء
-- باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِيَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ:" يُكْتَبُ الْعِلْمُ عَنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ، وَتَجُوزُ شَهَادَاتُهُمْ مَا لَمْ يَدْعُوا إِلَيْهِ، فَإِذَا دَعَوْا إِلَيْهِ لَمْ يُكْتَبْ عَنْهُمْ، وَلَمْ تَجُزْ شَهَادَاتُهُمْ"، يُرِيدُ بِكَتَبَةِ الْعِلْمِ: الْأَخْبَارَ.
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل ہواء سے علم لیا جائے گا اور ان کی گواہی جائز ہے، جب تک وہ لوگوں کو اپنے عقیدے کی جانب دعوت نہ دیں، جب وہ اپنے عقیدے کی طرف دعوت دیں تو ان سے احادیث نہ لکھی جائیں اور نہ ہی ان کی گواہی جائز ہے۔
علم لکھنے سے ان کی مراد اخبار (روایات) ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20903]
علم لکھنے سے ان کی مراد اخبار (روایات) ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20903]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20903 in Urdu