السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. -- باب التطهير بالماء الذي خالطه طاهر لم يغلب عليه
-- اس پانی سے پاکی حاصل کرنے کا بیان جس میں کوئی پاک چیز مل جائے مگر اس پر غالب نہ آئے
حدیث نمبر: 21
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَارِثِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، نا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاهُ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ" أَنَّهَا كَرِهَتْ أَنْ يَتَوَضَّأَ بِالْمَاءِ الَّذِي يُبَلُّ فِيهِ الْخُبْزُ. وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنْمَا أَرَادَتْ إِذَا غَلَبَ عَلَيْهِ حَتَّى أُضِيفَ إِلَيْهِ".
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اس پانی کے ساتھ وضو کرنا ناپسند کیا جس میں روٹیاں تیر رہی ہوں۔
یہ روایت اگر صحیح ہو تو ان کی مراد یہ ہے کہ جب روٹیاں پانی پر غالب ہوں اور مکمل نسبت ہی ان کی طرف کر دی جائے یعنی وہ پانی نہ رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 21]
یہ روایت اگر صحیح ہو تو ان کی مراد یہ ہے کہ جب روٹیاں پانی پر غالب ہوں اور مکمل نسبت ہی ان کی طرف کر دی جائے یعنی وہ پانی نہ رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/39»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21 in Urdu