السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4128. -- باب: : الرجل يغني فيتخذ الغناء صناعة يؤتى عليه، ويأتي له، ويكون منسوبا إليه، مشهورا به معروفا، أو المرأة
-- باب: جو مرد گانا گائے اور اسے پیشہ بنا لے جس کے لیے اس کے پاس آیا جائے اور وہ اس کے لیے دوسروں کے پاس جائے، اور وہ اس کی طرف منسوب ہو کر اسی حوالے سے مشہور اور معروف ہو جائے، یا کوئی عورت ایسا کرے۔
حدیث نمبر: 21011
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ إِنْسَانٌ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْغِنَاءِ، فَقَالَ:" أَنْهَاكَ عَنْهُ، وَأَكْرَهُهُ"، قَالَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ:" انْظُرْ يَا ابْنَ أَخِي، إِذَا مَيَّزَ اللهُ الْحَقَّ مِنَ الْبَاطِلِ، فِي أَيِّهِمَا يُجْعَلُ الْغِنَاءُ؟".
عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے گانے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس سے منع بھی کرتا ہوں اور اسے ناپسند بھی کرتا ہوں۔ اس نے کہا: کیا یہ حرام ہے؟ کہنے لگے: اے بھتیجے! جب اللہ تعالیٰ حق و باطل میں تمیز کرے گا تو گانے کو کس پلڑے میں رکھے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21011]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21011 in Urdu