السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4129. -- باب: : الرجل لا ينسب نفسه إلى الغناء ولا يؤتى لذلك، ولا يأتي عليه، وإنما يعرف بأنه يطرب في الحال فيترنم فيها
-- باب: ایسا شخص جو خود کو گانے کی طرف منسوب نہ کرے اور نہ اس کے پاس اس غرض سے آیا جائے اور نہ وہ خود اس کے لیے جائے، بلکہ وہ اس بات سے معروف ہو کہ وہ حالتِ وجد میں گنگنانے لگتا ہے۔
حدیث نمبر: 21013
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُنَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَ:" دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ"، وَتِلْكَ أَيَّامُ مِنًى، وَرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِثَوْبِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِيَةٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کے پاس سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور منیٰ کے ایام میں ان کے پاس دو گانے والی بچیاں تھیں، وہ دونوں دف بجا رہی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹ پلائی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! چھوڑو، یہ عید کے ایام ہیں۔“ اور یہ منیٰ کے ایام تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کپڑے سے چھپا رکھا تھا اور میں مسجد میں کھیلنے والے حبشیوں کا کھیل دیکھ رہی تھی، میں اس وقت بچی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21013]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21013 in Urdu