السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4135. -- باب: : شهادة أهل العصبية
-- باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21074
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ⦗٣٩٥⦘ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، قَالَا: ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَيَقُولُ:" اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَالْمَكْرُوهُ فِي مَحَبَّةِ الرَّجُلِ مَنْ هُوَ مِنْهُ، أَنْ يَحْمِلَ عَلَى غَيْرِهِ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ مِنَ الْبَغْيِ، وَالطَّعْنِ فِي النَّسَبِ، وَالْعَصَبِيَّةِ وَالْبِغْضَةِ عَلَى النَّسَبِ لَا عَلَى مَعْصِيَةِ اللهِ وَلَا عَلَى جِنَايَةٍ مِنَ الْمُبْغَضِ عَلَى الْمُبْغِضِ، وَلَكِنْ يَقُولُ: أَبْغَضُهُ لِأَنَّهُ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، فَهَذِهِ الْعَصَبِيَّةُ الْمَحْضَةُ الَّتِي تُرَدُّ بِهَا الشَّهَادَةُ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: آدمی کا اپنے لوگوں سے محبت کرنے میں ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ وہ دوسروں پر وہ چیز لادے جو اللہ نے اس پر حرام کی ہے، یعنی سرکشی، نسب میں طعن، اور نسب کی بنیاد پر عصبیت اور بغض، نہ کہ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے اور نہ ہی اس وجہ سے کہ جس سے بغض رکھا گیا اس نے بغض رکھنے والے پر کوئی زیادتی کی ہو، بلکہ وہ کہتا ہے: میں اس سے اس لیے بغض رکھتا ہوں کہ وہ فلاں قبیلے سے ہے، تو یہی خالص عصبیت ہے جس کی وجہ سے شہادت رد کر دی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21074]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: آدمی کا اپنے لوگوں سے محبت کرنے میں ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ وہ دوسروں پر وہ چیز لادے جو اللہ نے اس پر حرام کی ہے، یعنی سرکشی، نسب میں طعن، اور نسب کی بنیاد پر عصبیت اور بغض، نہ کہ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے اور نہ ہی اس وجہ سے کہ جس سے بغض رکھا گیا اس نے بغض رکھنے والے پر کوئی زیادتی کی ہو، بلکہ وہ کہتا ہے: میں اس سے اس لیے بغض رکھتا ہوں کہ وہ فلاں قبیلے سے ہے، تو یہی خالص عصبیت ہے جس کی وجہ سے شہادت رد کر دی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21074]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3747»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21074 in Urdu