السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4136. -- باب: شهادة الشعراء
-- باب: شاعروں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21107
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ، فَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَاكَ"، قَالَ مَسْرُوقٌ: فَقُلْتُ لَهَا: لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ؟ وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: ١١] فَقَالَتْ:" فَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى؟"، وَقَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ خَالِدٍ.
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، ان کے پاس حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، وہ اشعار پڑھ رہے تھے، جو ان کی جوانی کے اشعار تھے۔ شعر
وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جن پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی
وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتیں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: آپ تو ایسے نہیں، مسروق رحمہ اللہ کہنے لگے: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة النور: 11] ”وہ انسان جو تہمت کا والی بنا ان میں سے ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔“ فرمانے لگیں: اندھے پن سے بڑا عذاب کیا ہے؟ اور فرمانے لگیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21107]
وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جن پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی
وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتیں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: آپ تو ایسے نہیں، مسروق رحمہ اللہ کہنے لگے: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة النور: 11] ”وہ انسان جو تہمت کا والی بنا ان میں سے ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔“ فرمانے لگیں: اندھے پن سے بڑا عذاب کیا ہے؟ اور فرمانے لگیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21107]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21107 in Urdu