السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4146. -- باب: : المزاح لا ترد به الشهادة ما لم يخرج في المزاح إلى عضه النسب أو عضه بحد أو فاحشة
-- باب: مذاق کی وجہ سے گواہی رد نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ مذاق میں نسب پر طعن کرنے، حد والی تہمت لگانے یا بے حیائی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 21172
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرَ بْنَ حِزَامٍ، أَوْ حَرَامٍ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ، وَكَانَ دَمِيمًا، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ فَقَالَ:" أَرْسِلْنِي، مَنْ هَذَا؟"، فَالْتَفَتَ، فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذًا وَاللهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِنْ عِنْدَ اللهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ"، أَوْ قَالَ:" لَكِنْ عِنْدَ اللهِ أَنْتَ غَالٍ". لَمْ يُثْبِتْهُ شَيْخُنَا، وَفِيهِ خِلَافٌ، فَقِيلَ: حِزَامٌ، وَقِيلَ: حَرَامٌ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الْغَنِيِّ الْحَافِظُ: حَرَامٌ بِالرَّاءِ أَصَحُّ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ظاہر بن حزام یا حرام ایک دیہاتی آدمی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور یہ سیاہ رنگ کا آدمی تھا، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور وہ اپنا سامان فروخت کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا، اس کو نظر نہیں آ رہا تھا، وہ کہنے لگا: ”مجھے چھوڑو! کون ہے؟“ پھر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی تو وہ پہچان گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پہچاننے کے بعد اس نے اپنی کمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے ساتھ لگا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ وہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تب تو آپ مجھ کو بہت سستا پائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن تو اللہ کے ہاں سستا نہیں ہے، بلکہ اللہ کے نزدیک تو قیمتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21172]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21172 in Urdu