السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4157. -- باب: : البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه
-- باب: گواہ (دلیل) پیش کرنا مدعی پر ہے، اور قسم مدعا علیہ پر ہے۔
حدیث نمبر: 21199
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرِزَانِ فِي بَيْتٍ، فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا وَقَدْ أُنْفِذَ بِإِشْفَى فِي كَفِّهَا، فَرُفِعَتْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَذَهَبَ دِمَاءُ قَوْمٍ وَأَمْوَالُهُمْ"، ذَكِّرُوهَا بِاللهِ، وَاقْرَءُوا عَلَيْهَا: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] فَذَكَّرُوهَا، فَاعْتَرَفَتْ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى هَذَا رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو عورتیں ایک گھر میں (چمڑا) سی رہی تھیں۔ ان میں سے ایک باہر آئی تو سوا اس کی ہتھیلی میں گھس چکا تھا۔ یہ معاملہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس پیش کیا گیا۔
آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر (سب کچھ) دے دیا جاتا تو وہ لوگوں کے خون اور مال کا دعویٰ کرتے۔“ (پھر فرمایا:) تم اسے اللہ کی یاد دلا کر نصیحت کرو اور اس پر یہ آیت تلاوت کرو: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] کہ یہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں، پھر اس کو وعظ و نصیحت کی گئی تو اس عورت نے اعتراف کر لیا۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21199]
آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر (سب کچھ) دے دیا جاتا تو وہ لوگوں کے خون اور مال کا دعویٰ کرتے۔“ (پھر فرمایا:) تم اسے اللہ کی یاد دلا کر نصیحت کرو اور اس پر یہ آیت تلاوت کرو: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] کہ یہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں، پھر اس کو وعظ و نصیحت کی گئی تو اس عورت نے اعتراف کر لیا۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21199]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21199 in Urdu