🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4169. -- باب: : الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره.
-- باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21278
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلِيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِيُ يَا رَسُولَ اللهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ"، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا تو سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، اس نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ یہ اسی کا بیٹا ہے، آپ اس کی شباہت ملاحظہ فرمائیں۔“ اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بھائی ہے، یہ میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شباہت دیکھی تو اس میں عتبہ کی واضح شباہت پائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد! یہ لڑکا تمہارا ہی (بھائی) ہے، «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ”بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے“ اور اے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا! تم اس سے پردہ کرو۔“ چنانچہ اس (لڑکے) نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہیں دیکھا۔
اسے بخاری اور مسلم نے صحیح میں قتیبہ بن سعید سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21278]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21278 in Urdu