السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4175. -- باب: أخذ الرجل حقه ممن يمنعه إياه.
-- باب: آدمی کا اپنا حق اس شخص سے وصول کرنا جو اسے اس سے روکتا ہو۔
حدیث نمبر: 21303
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ النَّخَعِيُّ، أنبأ شَرِيكٌ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ"، قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: قُلْتُ لِطَلْقٍ: أَكْتُبُ شَرِيكًا وَأَدَعُ قَيْسًا، قَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ. الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ فِي حُكْمِ الْمُنْقَطِعِ، حَيْثُ لَمْ يَذْكُرْ يُوسُفُ بْنُ مَاهَكٍ اسْمَ مَنْ حَدَّثَهُ، وَلَا اسْمَ مَنْ حَدَّثَ عَنْهُ مَنْ حَدَّثَهُ، وَحَدِيثُ أَبِي حُصَيْنٍ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْهُ شَرِيكٌ الْقَاضِي، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَيْسٌ ضَعِيفٌ، وَشَرِيكٌ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَإِنَّمَا ذَكَرَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الشَّوَاهِدِ، وَرُوِيَ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا ضَعِيفٌ، لِأَنَّ مَكْحُولًا لَا يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ شَيْئًا، وَأَبُو حَفْصٍ الدِّمَشْقِيُّ هَذَا مَجْهُولٌ، وَرُوِيَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ..
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تجھے امین خیال کرے اس کی امانت ادا کر اور جو کوئی تجھ سے خیانت کرے تو آپ خیانت نہ کریں۔“ ابوفضل کہتے ہیں: میں نے طلق سے کہا: میں شریک کے لیے لکھتا ہوں اور قیس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ فرمایا: آپ بہتر جانتے ہیں۔
پہلی حدیث منقطع کے حکم میں ہے، کیونکہ یوسف بن ماہک نے نہ اس شخص کا نام ذکر کیا جس نے انہیں حدیث بیان کی اور نہ اس کا جس سے اس نے روایت کی۔ ابو حصین کی حدیث کو ان سے صرف شریک قاضی اور قیس بن ربیع نے روایت کیا ہے، قیس ضعیف ہے اور شریک سے اکثر محدثین نے حجت نہیں پکڑی، امام مسلم بن حجاج نے انہیں صرف شواہد میں ذکر کیا ہے۔ یہ روایت ابو حفص دمشقی سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے ابو امامہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کی گئی ہے، اور یہ ضعیف ہے، کیونکہ مکحول نے ابو امامہ سے کچھ نہیں سنا اور یہ ابو حفص دمشقی مجہول ہے۔ نیز یہ حسن سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے اور یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21303]
پہلی حدیث منقطع کے حکم میں ہے، کیونکہ یوسف بن ماہک نے نہ اس شخص کا نام ذکر کیا جس نے انہیں حدیث بیان کی اور نہ اس کا جس سے اس نے روایت کی۔ ابو حصین کی حدیث کو ان سے صرف شریک قاضی اور قیس بن ربیع نے روایت کیا ہے، قیس ضعیف ہے اور شریک سے اکثر محدثین نے حجت نہیں پکڑی، امام مسلم بن حجاج نے انہیں صرف شواہد میں ذکر کیا ہے۔ یہ روایت ابو حفص دمشقی سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے ابو امامہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کی گئی ہے، اور یہ ضعیف ہے، کیونکہ مکحول نے ابو امامہ سے کچھ نہیں سنا اور یہ ابو حفص دمشقی مجہول ہے۔ نیز یہ حسن سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے اور یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21303]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21303 in Urdu