السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4183. -- باب: : من أعتق شركا له في عبد وهو معسر.
-- باب: جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور وہ تنگ دست ہو۔
حدیث نمبر: 21361
أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الْمَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ح قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ أَعْتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ وَعُثْمَانَ:" فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ - يَعْنِي: عَلَى الْمُعْتَقِ، عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ ⦗٤٧٣⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِمَعْنَى ابْنِ نُمَيْرٍ..
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو مکمل آزاد کرنا اس کے ذمہ ہے، اگر اس کے پاس مال موجود ہو، اور اگر مال نہیں تو جتنا آزاد کیا پھر اتنا ہی آزاد ہوگا۔“
(ب) ابوبکر اور عثمان کی حدیث میں ہے کہ: ”مکمل آزاد کرنا اس کے ذمہ ہے، اگر اس کے پاس مال موجود ہو، اگر مال موجود نہ ہو تو عدل والی قیمت لگائی جائے گی، یعنی آزاد کرنے والے کی جانب سے اتنا ہی آزاد ہو گیا جتنا اس نے آزاد کیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21361]
(ب) ابوبکر اور عثمان کی حدیث میں ہے کہ: ”مکمل آزاد کرنا اس کے ذمہ ہے، اگر اس کے پاس مال موجود ہو، اگر مال موجود نہ ہو تو عدل والی قیمت لگائی جائے گی، یعنی آزاد کرنے والے کی جانب سے اتنا ہی آزاد ہو گیا جتنا اس نے آزاد کیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21361]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21361 in Urdu