السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4191. -- باب: : من قال: لعبده: أنت حر على أن عليك مائة دينار، أو خدمة سنة، أو عمل كذا، فقبل العبد، أيعتق على ذلك؟
-- باب: جس نے اپنے غلام سے کہا: تو آزاد ہے اس شرط پر کہ تجھ پر سو دینار دینا، یا ایک سال کی خدمت کرنا، یا فلاں کام کرنا لازم ہے، اور غلام نے اسے قبول کر لیا، تو کیا وہ اس شرط پر آزاد ہو جائے گا؟
حدیث نمبر: 21428
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ، ثُمَّ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ أَنَّ لَهُ عَمَلَهُ سِنِينَ، فَرَعَى لَهُ بَعْضَ سِنِيِّهِ. وَفِي رِوَايَةِ الْقَاضِي: بَعْضَ سَنَةٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْهِ، إِمَّا فِي حَجٍّ، وَإِمَّا فِي عُمْرَةٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ:" قَدْ تَرَكْتُ الَّذِي اشْتَرَطْتُ عَلَيْكَ، وَأَنْتَ حُرٌّ، وَلَيْسَ عَلَيْكَ عَمَلٌ. كَذَا وَجَدْتُهُ:" ثُمَّ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ"، وَإِنَّمَا هُوَ:" وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِ"..
(٢١٤٢٨) عقبہ نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام آزاد کیا، پھر اس پر شرط لگائی کہ وہ ایک سال تک ان کا کام کرے گا۔
قاضی (رح) فرماتے ہیں: کچھ سال گزارتوعبداللہ حج یا عمرہ کیعزض سے تشریف لائے تو فرمایا: میں نے اپنی شرط چھوڑ دی، آپ آزاد ہیں، آپ کے ذمہ کام نہیں ہے۔ [صحیح ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21428]
قاضی (رح) فرماتے ہیں: کچھ سال گزارتوعبداللہ حج یا عمرہ کیعزض سے تشریف لائے تو فرمایا: میں نے اپنی شرط چھوڑ دی، آپ آزاد ہیں، آپ کے ذمہ کام نہیں ہے۔ [صحیح ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21428]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21428 in Urdu