السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4193. -- باب: : من والى رجلا أو أسلم على يديه
-- باب: جس نے کسی شخص سے ولاء کا رشتہ قائم کیا یا اس کے ہاتھ پر اسلام لایا۔
حدیث نمبر: Q21448
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" لَمْ يَكُنْ مَوْلًى لَهُ بِالْإِسْلَامِ، وَلَا الْمُوَالِاةِ"، وَاحْتَجَّ فِي ذَلِكَ بِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: 5] وَقَالَ: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: 37] فَنَسَبَ الْمَوَالِيَ إِلَى نَسَبَيْنِ: أَحَدُهُمَا إِلَى الْآبَاءِ، وَالْآخَرُ إِلَى الْوَلَاءِ، وَجَعَلَ الْوَلَاءَ بِالنِّعْمَةِ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ (کسی کے ہاتھ پر) اسلام لانے یا (باہمی) موالات کی بنا پر اس کا مولیٰ نہیں بنے گا۔“
اور انہوں نے اس بارے میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمان سے استدلال کیا: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ ”انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست (موالی) ہیں۔“ [سورة الأحزاب: 5]
اور فرمایا: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ﴾ ”اور (یاد کریں) جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے (بھی) اس پر انعام کیا۔“ [سورة الأحزاب: 37]
تو اللہ تعالیٰ نے موالی کو دو نسبتوں کی طرف منسوب کیا: ان میں سے ایک باپوں کی طرف، اور دوسری ولاء کی طرف، اور ولاء کو انعام (یعنی آزاد کرنے کے احسان) کی بنیاد پر قرار دیا... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: Q21448]
اور انہوں نے اس بارے میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمان سے استدلال کیا: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ ”انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست (موالی) ہیں۔“ [سورة الأحزاب: 5]
اور فرمایا: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ﴾ ”اور (یاد کریں) جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے (بھی) اس پر انعام کیا۔“ [سورة الأحزاب: 37]
تو اللہ تعالیٰ نے موالی کو دو نسبتوں کی طرف منسوب کیا: ان میں سے ایک باپوں کی طرف، اور دوسری ولاء کی طرف، اور ولاء کو انعام (یعنی آزاد کرنے کے احسان) کی بنیاد پر قرار دیا... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: Q21448]
حدیث نمبر: 21448
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خریدنا چاہی تاکہ آزاد کر دیں تو مالک کہنے لگے: فروخت کر دیتے ہیں، لیکن ولاء میری ہوگی۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چیز تجھے خریدنے سے نہ روکے۔ ولاء اس کی ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21448]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21448 in Urdu