🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4198. -- باب: : المسلم يعتق نصرانيا أو النصراني يعتق مسلما
-- باب: مسلمان کسی نصرانی کو آزاد کرے یا نصرانی کسی مسلمان کو آزاد کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21472
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ وَابْنُ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ ⦗٥٠٥⦘ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا، فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
(٢١٤٧٢) عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اپنی مکاتبت میں مدد چاہی۔ ابھی تک اس نے کچھ ادا بھی نہ کیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ جاؤ اگر وہ پسند کریں تو میں تمہاری کاتبت ادا کردیتی ہوں اور ولاء میرے لیے ہوگی تو بریرہ نے ذکر کیا لیکن انھوں نے اس سے انکار کردیا اور کہا: اگر وہ ثواب چاہتی ہیں تو یہ کام کریں، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خریدو اور آزاد کرو ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں! جس نے ایسی شرط لگائی جو اللہ کی کتاب میں نہیں، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگرچہ وہ سو شرطیں بھی لگائیں، اللہ کی شرائط وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21472]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21472 in Urdu