السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4198. -- باب: : المسلم يعتق نصرانيا أو النصراني يعتق مسلما
-- باب: مسلمان کسی نصرانی کو آزاد کرے یا نصرانی کسی مسلمان کو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 21472
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ وَابْنُ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ ⦗٥٠٥⦘ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا، فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی مکاتبت میں مدد چاہی، ابھی تک انہوں نے کچھ ادا بھی نہ کیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جاؤ، اگر وہ پسند کریں تو میں تمہاری مکاتبت ادا کر دیتی ہوں اور ولاء میرے لیے ہوگی، پھر بریرہ رضی اللہ عنہا نے (ان سے) ذکر کیا لیکن انہوں نے اس سے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ ثواب چاہتی ہیں تو یہ کام کریں، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں! جس نے ایسی شرط لگائی جو اللہ کی کتاب میں نہیں، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگرچہ وہ سو شرطیں بھی لگائیں، اللہ کی شرائط وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21472]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21472 in Urdu