السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4198. -- باب: : المسلم يعتق نصرانيا أو النصراني يعتق مسلما
-- باب: مسلمان کسی نصرانی کو آزاد کرے یا نصرانی کسی مسلمان کو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 21477
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ عَالِيًا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَدَعَا أَبَا وَدِيعَةَ بْنَ خِدَامٍ، وَكَانَ وَارِثَ سَلْمَى بِنْتِ يَعَارٍ، فَقَالَ:" هَذَا مِيرَاثُ مَوْلَاكُمْ فَخُذُوهُ"، فَقَالَ وَدِيعَةُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَعْتَقَتْهُ صَاحِبَتُنَا سَائِبَةً لِأَبَوَيْهَا، وَقَدْ أَغْنَاهَا اللهُ عَنْهُ، فَلَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ، قَالَ: فَجَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ. وَرَوَاهُ بِمَعْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
یعقوب بن ابراہیم بن سعد اپنی سند سے روایت کرتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ انہوں نے ابو ودیعہ بن خدام کو طلب کیا اور وہ سلمی بنت یعار کے وارث تھے، انہوں نے کہا: یہ تمہارے آزاد کردہ غلام کی وراثت ہے اسے لے لو۔ ودیعہ کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! ہمارے قبیلے کی ایک عورت نے اسے سائبہ (اپنے والدین کے نام پر) آزاد کیا تھا، اللہ نے ہمیں اس سے مستغنی کیا ہے، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بیت المال میں جمع کروا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21477]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21477 in Urdu