السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4218. -- باب: : ما جاء في تفسير قوله عز وجل: إن علمتم فيهم خيرا
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر کا بیان: ”اگر تم ان میں بھلائی جانو“۔
حدیث نمبر: 21609
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَطَاوُسٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] قَالَ:" مَالًا وَأَمَانَةً".
حضرت ابن ابی نجیح، مجاہد اور طاؤس رحمہما اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں: اس میں «خَيْر» سے مراد ”مال اور امانت“ ہے۔
(ب) حضرت یونس، حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی، پورا پورا ادا کرنا اور امانت ہے۔
(ج) مغیرہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی اور پورا کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21609]
(ب) حضرت یونس، حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی، پورا پورا ادا کرنا اور امانت ہے۔
(ج) مغیرہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی اور پورا کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21609]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21609 in Urdu