السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4228. -- باب: : المكاتب عبد ما بقي عليه درهم
-- باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 21650
وَرُوِيَ عَنْهُ، كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ السُّوَائِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا أَدَّى الْمُكَاتَبُ النِّصْفَ لَمْ يُسْتَرَقَّ" الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَا يَثْبُتُ سَمَاعُهُ مِنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَهُوَ إِنْ صَحَّ فَكَأَنَّهُ أَرَادَ أَنَّهُ قَدْ قَرُبَ أَنْ يَعْتِقَ، فَالْأَوْلَى أَنْ يُمْهَلَ حَتَّى يَكْتَسِبَ مَا بَقِيَ، وَلَا يَرُدَّ إِلَى الرِّقِّ بِالْعَجْزِ عَنِ الْبَاقِي، وَاللهُ أَعْلَمُ..
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مکاتب نصف قیمت ادا کر دے تو وہ غلام نہیں رہتا۔
نوٹ: قاسم بن عبدالرحمٰن کا جابر بن سمرہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ اگر یہ روایت صحیح ہو تو ان کا ارادہ یہ ہے کہ جب وہ آزادی کے قریب پہنچ جائے تو اس کو مہلت دینی چاہیے کہ وہ کما کر باقی ادا کر دے نہ کہ دوبارہ غلامی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21650]
نوٹ: قاسم بن عبدالرحمٰن کا جابر بن سمرہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ اگر یہ روایت صحیح ہو تو ان کا ارادہ یہ ہے کہ جب وہ آزادی کے قریب پہنچ جائے تو اس کو مہلت دینی چاہیے کہ وہ کما کر باقی ادا کر دے نہ کہ دوبارہ غلامی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21650]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21650 in Urdu