السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4232. -- باب: : من كره أخذها فأبرأه من مال الكتابة بقدرها.
-- باب: جس نے اسے (صدقات کو) وصول کرنا مکروہ سمجھا، چنانچہ اس نے اسے اسی قدر مالِ کتابت سے بری کر دیا۔
حدیث نمبر: 21666
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: كَاتَبَ ابْنُ عُمَرَ غُلَامًا لَهُ، فَجَاءَ بِنَجْمِهِ حِينَ حَلَّ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ هَذَا؟"، قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ وَأَعْمَلُ، فَقَالَ:" تُرِيدُ أَنْ تُطْعِمَنِي أَوْسَاخَ النَّاسِ؟ أَنْتَ حُرٌّ، وَلَكَ نَجْمُكَ".
میمون بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے مکاتبت کی۔ وہ جس وقت آیا تو کچھ لے کر آیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: یہ کہاں سے؟ کہنے لگا: میں لوگوں سے مانگتا اور کام کرتا رہا ہوں تو کہنے لگے: تو لوگوں کی میل کچیل مجھے کھلائے گا۔ جا تو آزاد ہے اور یہ حصہ بھی تیرے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21666]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21666 in Urdu