السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
437. جماع أبواب استقبال القبلة -- باب: تحويل القبلة من بيت المقدس إلى الكعبة
قبلہ رخ ہونے کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ تبدیل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2190
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ:" قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: ١٤٤] الْآيَةُ، فَمَرَّ رَجُلٌ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤⦘ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُصَلُّونَ وَهُمْ رُكُوعٌ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَتَحَرَّفُوا نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ وَهُمُ الْيَهُودُ {مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا} [البقرة: ١٤٢] قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} [البقرة: ١٤٢] " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَجَاءٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ ماہ تک نماز پڑھتے رہے، لیکن آپ کی خواہش تھی کہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ ہم ضرور آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیریں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس آپ اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔“
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا، وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے اور حالت رکوع میں تھے تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آچکا ہے) تو وہ لوگ بھی کعبہ کی طرف پھر گئے۔ بعض بے وقوف لوگوں نے کہا، جو دراصل یہودی تھے: ﴿مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142] ”جس قبلہ پر یہ تھے اس سے ان کو کس نے پھیر دیا؟“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [سورة البقرة: 142] ”کہہ دیجیے کہ اللہ ہی کے لیے مشرق اور مغرب ہے۔ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2190]
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا، وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے اور حالت رکوع میں تھے تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آچکا ہے) تو وہ لوگ بھی کعبہ کی طرف پھر گئے۔ بعض بے وقوف لوگوں نے کہا، جو دراصل یہودی تھے: ﴿مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142] ”جس قبلہ پر یہ تھے اس سے ان کو کس نے پھیر دیا؟“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [سورة البقرة: 142] ”کہہ دیجیے کہ اللہ ہی کے لیے مشرق اور مغرب ہے۔ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 390»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2190 in Urdu