السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
439. -- باب: الرخصة في ترك استقبالها في السفر إذا تطوع راكبا أو ماشيا
-- باب: سفر میں سوار یا پیدل نفل پڑھنے کی صورت میں قبلہ رخ ہونے کو ترک کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 2201
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ يُومِي إِيمَاءً أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ بِوَجْهِهِ تَطَوُّعًا قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ} [البقرة: ١١٥] ثُمَّ قَالَ فِي هَذَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ".
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر اشارے سے (نماز نفل) ادا کرلیا کرتے تھے، اس سواری کا منہ جدھر بھی ہوتا اور فرماتے تھے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کرتے تھے۔“ پھر یہ آیت کریمہ تلاوت کی: ﴿وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ﴾ [سورة البقرة: 115] ”اور اللہ ہی کے لیے مشرق و مغرب ہے، جدھر بھی پھر جاؤ ادھر اللہ کا چہرہ ہے، بیشک اللہ تعالیٰ وسعت والا جاننے والا ہے۔“ پھر فرمایا: یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2201]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي 2958»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2201 in Urdu