السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
442. -- باب: الإيماء بالركوع والسجود، والسجود أخفض من الركوع
-- باب: رکوع اور سجدے کے لیے اشارہ کرنے، اور سجدے کا اشارہ رکوع کی نسبت زیادہ جھک کر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ:" بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ" فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا۔ جب میں واپس آیا تو آپ اپنی سواری پر مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ سجدے میں رکوع سے زیادہ جھکتے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2211]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شبية 2/236»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2211 in Urdu