السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
446. -- باب: الرخصة في ترك استقبال القبلة في المكتوبة حال المسايفة وشدة القتال
-- باب: تلوار بازی اور شدید جنگ کی حالت میں فرض نماز میں استقبالِ قبلہ (قبلہ رخ ہونے) کو ترک کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 2228
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ:" يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ ثُمَّ قَصَّ الْحَدِيثَ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْحَدِيثِ: فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلُّوا رِجَالًا وَرُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ، وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا" وَهُوَ ثَابِتٌ مِنْ جِهَةِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَوْضِعُهُ كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ.
(ا) نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب صلاۃ الخوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ امام اور ایک جماعت آگے نکل کر نماز پڑھے اور دوسری دشمن کے مقابلے میں رہے، پھر مکمل حدیث بیان کی۔
(ب) حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو وہ پیدل اور سوار دونوں حالت میں ادا کریں، چاہے قبلہ رخ ہوں نہ ہوں۔“
(ج) یہ روایت موسیٰ بن عقبہ کے طریق سے نافع سے، وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس کا محل کتاب صلاۃ الخوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2228]
(ب) حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو وہ پیدل اور سوار دونوں حالت میں ادا کریں، چاہے قبلہ رخ ہوں نہ ہوں۔“
(ج) یہ روایت موسیٰ بن عقبہ کے طریق سے نافع سے، وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس کا محل کتاب صلاۃ الخوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1/148»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2228 in Urdu