السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. -- باب: الفصل بين المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے درمیان فصل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 234
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثًا، يَذْكُرُ عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" دَخَلْتُ يَعْنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وَالْمَاءُ يَسِيلُ مِنْ وَجْهِهِ وَلِحْيَتِهِ عَلَى صَدْرِهِ، فَرَأَيْتُهُ يَفْصِلُ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ". وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ، فِي حَدِيثٍ آخَرَ لِلَّيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فِي الْوُضُوءِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ، فَأَنْكَرَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ، يَقُولُ: إِنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ يُنْكِرُهُ وَيَقُولُ: أَيْشْ هَذَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِيُّ: قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ لَيْثًا رَوَى عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ وَعَجِبَ أَنْ يَكُونَ جَدُّ طَلْحَةَ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عَلِيٌّ: وَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ نَسَبِ جَدِّ طَلْحَةَ، فَقَالَ: عَمْرُو بْنُ كَعْبٍ، أَوْ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ. وَقَالَ غَيْرُهُ: عَمْرُو بْنُ كَعْبٍ لَمْ يُشَكَّ فِيهِ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسُ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: رَأَى جَدُّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ يَحْيَى: الْمُحَدِّثُونَ يَقُولُونَ: قَدْ رَآهُ، وَأَهْلُ بَيْتِ طَلْحَةَ يَقُولُونَ: لَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ.
طلحہ اپنے والد سے، وہ طلحہ کے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے اور پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے داڑھی اور سینے پر بہہ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلی اور ناک میں پانی الگ الگ ڈالتے تھے۔
یحییٰ القطان نے اس حدیث کو منکر قرار دیا، اور سفیان بن عیینہ نے بھی اس کا انکار کیا اور اس پر تعجب کیا کہ طلحہ کے دادا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ہو۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں: محدثین کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، جبکہ طلحہ کے گھر والے کہتے ہیں کہ انہیں صحبت حاصل نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 234]
یحییٰ القطان نے اس حدیث کو منکر قرار دیا، اور سفیان بن عیینہ نے بھی اس کا انکار کیا اور اس پر تعجب کیا کہ طلحہ کے دادا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ہو۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں: محدثین کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، جبکہ طلحہ کے گھر والے کہتے ہیں کہ انہیں صحبت حاصل نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 234]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابوداؤد 139»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 234 in Urdu