السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
485. -- باب: الدليل على أن ما جمعته مصاحف الصحابة رضي الله عنهم كله قرآن، وبسم الله الرحمن الرحيم في فواتح السور سوى سورة براءة من جملته
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف نے جسے جمع کیا وہ سب قرآن ہے، اور سورہ توبہ کے سوا سورتوں کے آغاز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ بھی اسی کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 2381
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، ثنا جَعْفَرٌ، ثنا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي ذِكْرِ الْإِفْكِ، قَالَتْ: جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ:" أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ أَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ} الْآيَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ كَلَامِ حُمَيْدٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عِنْدَ افْتِتَاحِ سُورَةٍ، وَلَمْ يَقْرَأْهَا عِنْدَ افْتِتَاحِ آيَاتٍ لَمْ تَكُنْ أَوَّلَ سُورَةٍ، وَفِي ذَلِكَ تَأْكِيدٌ لِمَا رُوِّينَاهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَأَنَّهَا إِنَّمَا كُتِبَتْ فِي الْمَصَاحِفِ حَيْثُ نَزَلَتْ، وَاللهُ أَعْلَمُ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ افک سے متعلق منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، آپ نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹایا اور یہ آیت تلاوت کی: ” «أَعُوذُ بِاللّٰهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی جو سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے، شیطان مردود سے“ ﴿إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ﴾ [سورة النور: 11] “۔
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے خدشہ ہے کہ استعاذہ کی زیادتی حمید کا کلام نہ ہو۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے“ سورت شروع کرنے سے پہلے پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیات جو سورت کے شروع میں نہ ہوں ان سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس کی بھی تاکید ہے جو ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ مصاحف میں تب ہی لکھی جاتی جب نازل ہوتی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2381]
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے خدشہ ہے کہ استعاذہ کی زیادتی حمید کا کلام نہ ہو۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے“ سورت شروع کرنے سے پہلے پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیات جو سورت کے شروع میں نہ ہوں ان سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس کی بھی تاکید ہے جو ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ مصاحف میں تب ہی لکھی جاتی جب نازل ہوتی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2381]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 783»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2381 in Urdu