السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. -- باب: عرك العارضين
-- باب: رخساروں کو ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 249
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ دُحَيْمٍ، وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ عَرَكَ عَارِضَيْهِ بَعْضَ الْعَرْكِ، ثُمَّ شَبَّكَ لِحْيَتَهُ بِأَصَابِعِهِ مِنْ تَحْتِهَا". تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ، وَاخْتَلَفُوا فِي عَدَالَتِهِ، فَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَبَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: قَالَ أَبِي: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، وَقَتَادَةَ، قَالَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا وَهُوَ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَرَوَاهُ أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَهُوَ الصَّوَابُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”جب وضو کرتے تو اپنے رخساروں کو کچھ ملتے، پھر داڑھی کے نیچے سے انگلیاں ڈال کر خلال کرتے۔“
(ب) ابن ابی حاتم کے والد بیان فرماتے ہیں کہ ولید نے «عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ وَقَتَادَةَ» کی سند سے (کہ ان دونوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے) مرسل بیان کیا ہے، اور یہی درستی کے زیادہ قریب ہے۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر اس کا موقوف ہونا ہی درست ہے۔
عبدالواحد بن قیس اس روایت میں منفرد ہیں اور ان کی عدالت میں اختلاف ہے، یحییٰ بن معین نے انہیں ثقہ کہا ہے جبکہ یحییٰ بن سعید القطان اور محمد بن اسماعیل بخاری نے انہیں رد کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 249]
(ب) ابن ابی حاتم کے والد بیان فرماتے ہیں کہ ولید نے «عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ وَقَتَادَةَ» کی سند سے (کہ ان دونوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے) مرسل بیان کیا ہے، اور یہی درستی کے زیادہ قریب ہے۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر اس کا موقوف ہونا ہی درست ہے۔
عبدالواحد بن قیس اس روایت میں منفرد ہیں اور ان کی عدالت میں اختلاف ہے، یحییٰ بن معین نے انہیں ثقہ کہا ہے جبکہ یحییٰ بن سعید القطان اور محمد بن اسماعیل بخاری نے انہیں رد کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 249]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 249 in Urdu