السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
506. -- باب: التكبير للركوع وغيره
-- باب: رکوع اور دیگر ارکان کے لیے تکبیر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 2494
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي وَبَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ" يُكَبِّرُ فِي صَلَاةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، وَغَيْرِهَا فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي اثْنَتَيْنِ فَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ"، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلَاتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا" قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَحِمَهُ اللهُ، هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ يَحْمِلُهُ مَالِكٌ، وَالزُّبَيْرِيُّ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ⦗٩٩⦘ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَوَافَقَ عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ حَدِيثَ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ.
(ا) ابوبکر بن عبدالرحمن اور ابو سلمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرض نماز اور غیر فرض نماز میں تکبیر کہتے تھے۔ جب کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع کے وقت تکبیر کہتے، پھر سجدے سے پہلے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہتے، پھر سجدہ کے لیے جھکتے ہوئے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے، پھر سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے، پھر دوسرے سجدے کے لیے بھی تکبیر کہتے، اس کے بعد دوسرے سجدے سے اٹھتے ہوئے بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔ دو رکعتوں کے بعد قعدہ سے اٹھتے ہوئے بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے۔ آپ ہر رکعت میں اس طرح کرتے حتیٰ کہ نماز سے فارغ ہوجاتے۔ ایک مرتبہ سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے سب سے زیادہ قریب ہوں، آپ کی یہی نماز رہی حتیٰ کہ دنیا سے انتقال فرما گئے۔“
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس آخری کلام کو امام مالک، زبیری اور دیگر نے زہری سے، انہوں نے علی بن حسین سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2494]
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس آخری کلام کو امام مالک، زبیری اور دیگر نے زہری سے، انہوں نے علی بن حسین سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 2/ 270/ 7645»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2494 in Urdu