🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
507. -- باب: رفع اليدين عند الركوع وعند رفع الرأس منه
-- باب: رکوع میں جاتے وقت اور اس سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2527
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمْدَانَ ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ أَبِي مَرْحُومٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نَبَاتَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: ٢] قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ:" مَا هَذِهِ النَّحِيرَةُ الَّتِي أَمَرَنِي بِهَا رَبِّي؟" قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَحِيرَةٍ وَلَكِنَّهُ يَأْمُرُكَ إِذَا تَحَرَّمْتَ لِلصَّلَاةِ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ إِذَا كَبَّرْتَ، وَإِذَا رَكَعْتَ، وَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ، فَإِنَّهَا صَلَاتُنَا، وَصَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ الَّذِينَ فِي السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَفْعُ الْأَيْدِي مِنَ الِاسْتِكَانَةِ الَّتِي قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ} [المؤمنون: ٧٦] " وَقَدْ رُوِيَ هَذَا وَالِاعْتِمَادُ عَلَى مَا مَضَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 1-2] (یقینا ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی دیجیے) نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا: ”یہ کون سی قربانی ہے جس کے بارے میں میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے؟“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ وہ (جانور وغیرہ کی) قربانی نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ جب آپ نماز کے لیے تکبیر کہو تو اس وقت رفع یدین کرو اور جب رکوع کرو یا رکوع سے سر اٹھاؤ تب بھی رفع یدین کرو۔ یہی ہماری نماز ہے اور ان فرشتوں کی بھی نماز ہے جو سات آسمانوں میں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رفع یدین کرنا اس جھک جانے سے ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 76] ”پس نہ تو یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی“۔“
یہ روایت بھی نقل کر دی گئی ہے، لیکن اعتماد اسی پر ہے جو گزر چکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2527]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ اخرجه ابن حبان في المجروحين 1/177/112»

الحكم على الحديث: ضعيف جدا

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2527 in Urdu