السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
511. -- باب: السنة في وضع الراحتين على الركبتين ونسخ التطبيق
-- باب: ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھنے کی سنت اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2548
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ الْجُعْفِيِّ قَالَ:" قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَعَلْتُ أُطْبِقُ كَمَا يُطْبِقُ أَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ وَأَرْكَعُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا عَبْدَ اللهِ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا؟ قُلْتُ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يَفْعَلُهُ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ" قَالَ: صَدَقَ عَبْدُ اللهِ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا صَنَعَ الْأَمْرَ، ثُمَّ أَحْدَثَ اللهُ لَهُ الْأَمْرَ الْآخَرَ، فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَاصْنَعْهُ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ كَانَ لَا يُطْبِقُ" قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي صَارَ الْأَمْرُ إِلَيْهِ مَوْجُودٌ فِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ وَغَيْرِهِ فِي صِفَةِ رُكُوعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي ذَلِكَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَعْرَفُ بِالنَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) خیثمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ ابوسبرہ جعفی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں مدینہ آیا۔ چونکہ میں بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی طرح رکوع میں ہاتھ رانوں کے درمیان رکھ لیتا تھا۔ ایک آدمی نے کہا: آپ کو اس کام پر کس نے ترغیب دی؟ میں نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس طرح کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے۔
اس نے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ اس طرح کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نیا حکم جاری کیا۔ لہٰذا مسلمانوں کے اتفاقی مسئلے پر عمل کرو۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ دوبارہ تشریف لائے تو تطبیق نہیں کرتے تھے۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی پر تمام لوگوں کا عمل ہے۔ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع کی کیفیت ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اہل مدینہ ناسخ اور منسوخ کے بارے میں اہل کوفہ سے زیادہ جان پہچان رکھتے ہیں۔ «وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ» [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2548]
اس نے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ اس طرح کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نیا حکم جاری کیا۔ لہٰذا مسلمانوں کے اتفاقی مسئلے پر عمل کرو۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ دوبارہ تشریف لائے تو تطبیق نہیں کرتے تھے۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی پر تمام لوگوں کا عمل ہے۔ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع کی کیفیت ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اہل مدینہ ناسخ اور منسوخ کے بارے میں اہل کوفہ سے زیادہ جان پہچان رکھتے ہیں۔ «وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ» [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2548]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2548 in Urdu