السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
522. -- باب: الإمام يجمع بين قوله سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد وكذا المأموم
-- باب: امام اور اسی طرح مقتدی کا ”سمع الله لمن حمده“ اور ”ربنا لك الحمد“ کو جمع کر کے پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2612
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمْدَانَ أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" قَالَ:" اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" وَكَانَ إِذَا رَكَعَ يُكَبِّرُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ:" اللهُ أَكْبَرُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَقَوْلُهُ: كَانَ، عِبَارَةٌ عَنْ دَوَامِ فِعْلِهِ، وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُمَا، فَأَمَّا قَوْلُهُ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ، فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ بَعْدَ مَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِّينَا عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ صَلَاتَهُ قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ".
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تو «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ بھی کہتے اور جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے اور جب سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے۔
(ب) اس حدیث میں لفظ «كَانَ» ”تھے“ سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔
(ج) اس حدیث میں سر اٹھاتے وقت تکبیر سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے کی طرف جاتے تو تکبیر کہتے۔ واللہ اعلم۔ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے جو ابوبکر بن عبدالرحمن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
(د) سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2612]
(ب) اس حدیث میں لفظ «كَانَ» ”تھے“ سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔
(ج) اس حدیث میں سر اٹھاتے وقت تکبیر سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے کی طرف جاتے تو تکبیر کہتے۔ واللہ اعلم۔ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے جو ابوبکر بن عبدالرحمن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
(د) سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2612]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم قريبا، وبعيد اكثر من مرة وهو متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2612 in Urdu