السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
532. -- باب: من بسط ثوبا فسجد عليه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کپڑا بچھایا اور اس پر سجدہ کیا
حدیث نمبر: 2667
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْجُدُونَ وَأَيْدِيهِمْ فِي ثِيَابِهِمْ، وَيَسْجُدُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ عَلَى عِمَامَتِهِ" وَالْحَدِيثُ الْأَوَّلُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ ثَوْبًا مُنْفَصِلًا عَنْهُ، وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ يَسْجُدُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ عَلَى عِمَامَتِهِ وَجَبْهَتِهِ، وَالِاحْتِيَاطُ لِغَرَضِ السُّجُودِ أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سجدہ کر رہے ہوتے تو ان کے ہاتھ ان کے کپڑوں میں ہوتے اور ان میں سے بعض اپنے عمامہ پر سجدہ کر لیتے تھے۔
(ب) ان میں سے پہلی حدیث میں کپڑے سے مراد ایسا کپڑا ہے جو صرف سجدہ میں رکھنے کے لیے ہوتا ہے جیسے (رومال، چادر وغیرہ) اور دوسری روایت میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی پگڑی اور پیشانی پر سجدہ کر لیا کرتے ہوں، لیکن سجدے میں احتیاط بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2667]
(ب) ان میں سے پہلی حدیث میں کپڑے سے مراد ایسا کپڑا ہے جو صرف سجدہ میں رکھنے کے لیے ہوتا ہے جیسے (رومال، چادر وغیرہ) اور دوسری روایت میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی پگڑی اور پیشانی پر سجدہ کر لیا کرتے ہوں، لیکن سجدے میں احتیاط بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2667]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ (الي الحسن) اخرجه ابي شيبة 2739»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2667 in Urdu