السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
580. -- باب: من استحب أو أباح التسمية قبل التحية
-- باب: اس قول کا بیان جس نے التحیات سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کو مستحب یا مباح قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 2836
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ أَقُولُ فِي التَّشَهُّدِ بِسْمِ اللهِ قَالَ: قُلْ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ" قَالَ: قُلْتُ: أَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، قَالَ: قُلِ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ" قَالَ: وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ يَقُولُ إِذَا تَشَهَّدَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ". لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ.
(ا) حماد فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا: میں تشہد میں «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ کہہ لیا کروں؟ تو انہوں نے فرمایا: «التَّحِيَّاتُ» ”تمام قولی عبادتیں“ پڑھا کرو۔ حماد کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کہہ لوں؟ انہوں نے فرمایا: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ» ”تمام قولی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا کرو۔
(ب) حماد کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر (رحمہ اللہ) جب تشہد پڑھتے تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ بھی پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2836]
(ب) حماد کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر (رحمہ اللہ) جب تشہد پڑھتے تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ بھی پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2836 in Urdu