السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
581. -- باب: من قدم كلمتي الشهادة على كلمتي التسليم
-- باب: اس قول کا بیان جس نے شہادت کے دونوں کلموں کو سلام کے دونوں کلموں پر مقدم کیا ہے
حدیث نمبر: 2842
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ وَتُشِيرُ بِيَدِهَا تَقُولُ:" التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاكِيَّاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَدْعُو الْإِنْسَانُ لِنَفْسِهِ بَعْدُ" وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ مَرْفُوعًا، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیں تشہد سکھایا کرتی تھیں اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہتی تھیں: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، مالی، فعلی عبادات اور تسبیحات اللہ کے لیے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر فرماتی: ”اس کے بعد اپنے لیے دعا مانگو۔“
یہ روایت محمد بن صالح بن دینار کے واسطے سے قاسم بن محمد سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2842]
یہ روایت محمد بن صالح بن دینار کے واسطے سے قاسم بن محمد سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2842]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2842 in Urdu