السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
595. -- باب: من قال يترك المأموم القراءة فيما جهر فيه الإمام بالقراءة
-- باب: اس قول کا بیان کہ مقتدی ان نمازوں میں قراءت چھوڑ دے جن میں امام جہری قراءت کرتا ہے
حدیث نمبر: 2891
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ الدَّهَّانُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَمُصْعَبِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، ⦗٢٢٤⦘ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ وَهُوَ وَهْمٌ مِنِ ابْنِ عَجْلَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَجْلَانَ:" إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" قَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ أَبِي: لَيْسَتْ هَذِهِ الْكَلِمَةُ مَحْفُوظَةً، هِيَ مِنْ تَخَالِيطِ ابْنِ عَجْلَانَ. قَالَ: وَقَدْ رَوَاهُ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ أَيْضًا، يَعْنِي عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَخَارِجَةُ أَيْضًا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ الرَّازِيُّ كَمَا رَوَيَاهُ، وَيَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ مَتْرُوكٌ، وَاعْتِمَادُ الشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ بَعْدَ الْآيَةِ عَلَى الْحَدِيثِ الَّذِي:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، تم اس سے اختلاف نہ کرو، پس جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو چپ رہو اور جب امام ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
ابن عجلان کی روایت میں ہے: «إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» ”جب وہ قراءت کرے تو خاموش رہو۔“
یہ ابن عجلان کا وہم ہے۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے ابن عجلان کی حدیث میں «إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» کے بارے میں فرمایا: اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ابوحاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کلمہ محفوظ نہیں ہے، یہ ابن عجلان کے خلط ملط میں سے ہے۔ خارجہ بن مصعب نے بھی اسے روایت کیا ہے اور خارجہ بھی قوی نہیں ہے۔ یحییٰ بن علاء رازی نے بھی اسے انہی کی طرح روایت کیا ہے اور یحییٰ بن علاء متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2891]
ابن عجلان کی روایت میں ہے: «إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» ”جب وہ قراءت کرے تو خاموش رہو۔“
یہ ابن عجلان کا وہم ہے۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے ابن عجلان کی حدیث میں «إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» کے بارے میں فرمایا: اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ابوحاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کلمہ محفوظ نہیں ہے، یہ ابن عجلان کے خلط ملط میں سے ہے۔ خارجہ بن مصعب نے بھی اسے روایت کیا ہے اور خارجہ بھی قوی نہیں ہے۔ یحییٰ بن علاء رازی نے بھی اسے انہی کی طرح روایت کیا ہے اور یحییٰ بن علاء متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2891]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 2596»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2891 in Urdu