السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
600. -- باب: الاختيار في أن يسلم تسليمتين
-- باب: دو سلام پھیرنے کو اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2971
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ بِمَكَّةَ فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللهِ فَقَالَ:" أَنَّى عَقَلَهَا؟" وَقَالَ الْحَكَمُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" يَفْعَلُ ذَلِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أَنَّى عَلِقَهَا؟".
(ا) ابو معمر سے روایت ہے کہ میں نے مکہ میں ایک آدمی کے پیچھے نماز پڑھی تو اس نے دونوں طرف سلام پھیرا۔ میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: کہاں سے اس نے اس کو سمجھا؟ اور حکم نے فرمایا:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔“
(ب) صحیح مسلم میں دوسری سند سے منقول ہے مگر اس میں «أَنَّى عَقَلَهَا» کی جگہ «أَنَّى عَلِقَهَا» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2971]
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔“
(ب) صحیح مسلم میں دوسری سند سے منقول ہے مگر اس میں «أَنَّى عَقَلَهَا» کی جگہ «أَنَّى عَلِقَهَا» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2971]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 4239»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2971 in Urdu