السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
600. -- باب: الاختيار في أن يسلم تسليمتين
-- باب: دو سلام پھیرنے کو اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2980
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ تَسْلِيمَتَيْنِ: تَسْلِيمَةً عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَتَسْلِيمَةً عَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا" قَالَ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ: أَكُلَّ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتَ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَا، قَالَ: فَثُلُثَيْهِ؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَنِصْفَهُ؟ فَوَقَفَ الزُّهْرِيُّ عِنْدَ النِّصْفِ أَوْ عِنْدَ الثُّلُثِ، فَقَالَ لَهُ إِسْمَاعِيلُ: اجْعَلْ هَذَا الْحَدِيثَ فِيمَا لَمْ تَسْمَعْ.
(ا) عامر بن سعد اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں دو سلام پھیرتے دیکھا۔ آپ دائیں طرف سلام پھیرتے تو کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“۔ پھر بائیں طرف پھیرتے تو کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ یہاں تک کہ آپ کے رخساروں کی سفیدی دونوں طرف سے دکھائی دیتی تھی۔
(ب) اسماعیل بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے زہری کے آگے اس حدیث کا ذکر کیا تو زہری نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں یہ حدیث نہیں سنی تو اسماعیل بن محمد نے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام احادیث آپ نے سنی ہیں؟ زہری نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: دو تہائی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: چلو آدھی سہی؟ تو زہری نصف یا ثلث کے وقت رک گئے تو اسماعیل نے انہیں کہا کہ اس حدیث کو ان احادیث میں رکھو جو تم نے نہیں سنیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2980]
(ب) اسماعیل بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے زہری کے آگے اس حدیث کا ذکر کیا تو زہری نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں یہ حدیث نہیں سنی تو اسماعیل بن محمد نے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام احادیث آپ نے سنی ہیں؟ زہری نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: دو تہائی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: چلو آدھی سہی؟ تو زہری نصف یا ثلث کے وقت رک گئے تو اسماعیل نے انہیں کہا کہ اس حدیث کو ان احادیث میں رکھو جو تم نے نہیں سنیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2980]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2980 in Urdu