السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. -- باب: التكرار في مسح الرأس
-- باب: سر کے مسح میں تکرار کا بیان
حدیث نمبر: 299
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ". وَأَخْرَجَهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ هَكَذَا فِي مَسْحِ الرَّأْسِ مَرَّتَيْنِ، وَقَدْ خَالَفَهُ مَالِكٌ، وَوُهَيْبٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ وَغَيْرُهُمْ، فَرَوَوْهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى فِي مَسْحِ الرَّأْسِ مَرَّةً إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ اور اپنے سر کا دو مرتبہ مسح کیا اور اپنے پاؤں کو دو مرتبہ دھویا۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے ”کتاب السنن“ میں سفیان بن عیینہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے، جس میں سر کے مسح کا دو مرتبہ ذکر ہے۔
(ب) امام مالک، وہیب، سلیمان بن بلال، خالد واسطی وغیرہ نے سفیان کی مخالفت کی ہے اور عمرو بن یحییٰ سے سر کا ایک مرتبہ مسح کرنا نقل کیا ہے، البتہ یہ فرمایا کہ ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 299]
امام نسائی رحمہ اللہ نے ”کتاب السنن“ میں سفیان بن عیینہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے، جس میں سر کے مسح کا دو مرتبہ ذکر ہے۔
(ب) امام مالک، وہیب، سلیمان بن بلال، خالد واسطی وغیرہ نے سفیان کی مخالفت کی ہے اور عمرو بن یحییٰ سے سر کا ایک مرتبہ مسح کرنا نقل کیا ہے، البتہ یہ فرمایا کہ ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ أخرجه النسائي 99»
الحكم على الحديث: شاذ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 299 in Urdu