السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
608. -- باب: من استحب له أن يذكر الله في مكثه ذلك
-- باب: اس قول کا بیان جس نے امام کے لیے اس ٹھہرنے کے دوران اللہ کا ذکر کرنا مستحب قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 3007
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ:" وَإِلَيْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" قَالَ الْوَلِيدُ: قُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: وَكَيْفَ الِاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: يَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ أَسْتَغْفِرُ اللهَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" وَإِلَيْكَ السَّلَامُ، وَقَالَ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلَ الْأَوْزَاعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ.
(ا) ثوبان رضی اللہ عنہ سے اس جیسی حدیث ایک دوسری سند سے منقول ہے، البتہ اس میں انہوں نے «وَإِلَيْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» کا اضافہ کیا ہے۔
(ب) ولید کہتے ہیں: میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا: استغفار کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ «أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ» کہا جائے۔
(ج) امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ روایت داؤد بن رشید کے واسطے سے بیان کی ہے مگر انہوں نے «وَإِلَيْكَ السَّلَامُ» ذکر نہیں کیا اور «تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» کہا۔ پھر اوزاعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3007]
(ب) ولید کہتے ہیں: میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا: استغفار کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ «أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ» کہا جائے۔
(ج) امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ روایت داؤد بن رشید کے واسطے سے بیان کی ہے مگر انہوں نے «وَإِلَيْكَ السَّلَامُ» ذکر نہیں کیا اور «تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» کہا۔ پھر اوزاعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3007]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون قوله واليك السلام»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3007 in Urdu